عقل و دل


عقل نے ايک دن يہ دل سے کہا
بھولے بھٹکے کي رہنما ہوں ميں
ہوں زميں پر ، گزر فلک پہ مرا
ديکھ تو کس قدر رسا ہوں ميں
کام دنيا ميں رہبري ہے مرا
مثل خضر خجستہ پا ہوں ميں
ہوں مفسر کتاب ہستي کي
مظہر شان کبريا ہوں ميں
بوند اک خون کي ہے تو ليکن
غيرت لعل بے بہا ہوں ميں
دل نے سن کر کہا يہ سب سچ ہے
پر مجھے بھي تو ديکھ ، کيا ہوں ميں
راز ہستي کو تو سمجھتي ہے
اور آنکھوں سے ديکھتا ہوں ميں
ہے تجھے واسطہ مظاہر سے
اور باطن سے آشنا ہوں ميں
علم تجھ سے تو معرفت مجھ سے
تو خدا جو ، خدا نما ہوں ميں
علم کي انتہا ہے بے تابي
اس مرض کي مگر دوا ہوں ميں
شمع تو محفل صداقت کي
حسن کي بزم کا ديا ہوں ميں
تو زمان و مکاں سے رشتہ بپا
طائر سدرہ آشنا ہوں ميں

کس بلندي پہ ہے مقام مرا
عرش رب جليل کا ہوں ميں
HOME  |  IQBAL  |  POEMS AND WORKS  |  VIDEOS  |  AUDIO  |  USEFUL SITES  | CONTACT US
حصہ اول
1905.........


ہمالہ
گل رنگيں
عہد طفلي
مرزا غالب
ابر کوہسار
ايک مکڑا اور مکھي
ايک پہا ڑ اور گلہري
ايک گائے اور بکري
بچے کي د عا
ہمد ر د ي
ماں کا خواب
پر ندے کي فر ياد
خفتگان خاک سے استفسار
شمع و پروانہ
عقل و دل
صدائے درد
آفتاب
شمع
ايک آرزو
آفتاب صبح
درد عشق
گل پژمردہ
سيدکي لوح تربت
ماہ نو
انسان اور بزم قد رت
پيا م صبح
عشق اور موت
ز ہد اور رندي
شاعر
دل
مو ج دريا
رخصت اے بزم جہاں
طفل شير خوار
تصوير درد
نا لہ فراق
چاند
بلال
سر گزشت آدم
ترانہء ہندي
جگنو
صبح کا ستارہ
ہندوستاني بچوں کا قومي گيت
نيا شوالا
داغ
ابر
ايک پرندہ اور جگنو
بچہ اور شمع
کنار راوي
التجائے مسافر

غز ليات

گلزار ہست و بود نہ بيگانہ وار ديکھ
نہ آتے ، ہميں اس ميں تکرار کيا تھي
عجب واعظ کي دينداري ہے يا رب
لائوں وہ تنکے کہيں سے آشيانے کے ليے
کيا کہوں اپنے چمن سے ميں جدا کيونکر ہوا
انوکھي وضع ہے ، سارے زمانے سے نرالے ہيں
ظاہر کي آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئي
کہوں کيا آرزوئے بے دلي مجھ کو کہاں تک ہے
جنھيں ميں ڈھونڈتا تھا آسمانوں ميں زمينوں ميں
ترے عشق کي انتہا چاہتا ہوں
کشادہ دست کرم جب وہ بے نياز کرے
سختياں کرتا ہوں دل پر ، غير سے غافل ہوں ميں
مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھي چھوڑ دے
This file is not intended to be viewed directly using a web browser. To create a viewable file, use the Preview in Browser or Publish to Yahoo! Web Hosting commands from within Yahoo! SiteBuilder.