poems and works >> poetical works >> Kuliyat-e-Iqbal >> Bang-e-Dra (part 3)
HOME  |  IQBAL  |  POEMS AND WORKS  |  VIDEOS  |  AUDIO  |  USEFUL SITES  | CONTACT US
رات اور    شاعر


(1)

رات


کيوں ميري چاندني ميں پھرتا ہے تو پريشاں
خاموش صورت گل ، مانند بو پريشاں
تاروں کے موتيوں کا شايد ہے جوہري تو
مچھلي ہے کوئي ميرے دريائے نور کي تو
يا تو مري جبيں کا تارا گرا ہوا ہے
رفعت کو چھوڑ کر جو بستي ميں جا بسا ہے
خاموش ہو گيا ہے تار رباب ہستي
ہے ميرے آئنے ميں تصوير خواب ہستي
دريا کي تہ ميں چشم گرادب سو گئي ہے
ساحل سے لگ کے موج بے تاب سو گئي ہے
بستي زميں کي کيسي ہنگامہ آفريں ہے
يوں سو گئي ہے جيسے آباد ہي نہيں ہے

شاعر کا دل ہے ليکن ناآشنا سکوں سے
آزاد رہ گيا تو کيونکر مرے فسوں سے؟


(2)

شاعر


ميں ترے چاند کي کھيتي ميں گہر بوتا ہوں
چھپ کے انسانوں سے مانند سحر روتا ہوں
دن کي شورش ميں نکلتے ہوئے گھبراتے ہيں
عزلت شب ميں مرے اشک ٹپک جاتے ہيں
مجھ ميں فرياد جو پنہاں ہے ، سناؤں کس کو
تپش شوق کا نظارہ دکھاؤں کس کو
برق ايمن مرے سينے پہ پڑي روتي ہے
ديکھنے والي ہے جو آنکھ ، کہاں سوتي ہے
صفت شمع لحد مردہ ہے محفل ميري
آہ، اے رات! بڑي دور ہے منزل ميري
عہد حاضر کي ہوا راس نہيں ہے اس کو
اپنے نقصان کا احساس نہيں ہے اس کا

ضبط پيغام محبت سے جو گھبراتا ہوں
تيرے تابندہ ستاروں کو سنا جاتا ہوں
حصہ سوم

..........1908

بلاد اسلاميہ
ستارہ
دوستارے
گورستان شاہي
نمود صبح
تضمين بر شعر انيسي شاملو
فلسفہ غم
پھول کا تحفہ عطا ہونے پر
ترانہ ملي
وطنيت
ايک حاجي مدينے کے راستے ميں
قطعہ کل ايک شوريدہ خواب گاہ نبي پہ رو رو کے کہہ رہا
شکوہ
چاند
رات اور شاعر
بزم انجم
سير فلک
نصيحت
رام
موٹر
انسان
خطاب بہ جوانان اسلام
غرہ شوال يا ہلال عيد
شمع اور شاعر
مسلم
حضور رسالت مآب ميں
شفاخانہ حجاز
جواب شکوہ
ساقي
تعليم اور اس کے نتائج
قرب سلطان
شا عر
نو يد صبح
دعا
عيد پر شعر لکھنے کي فرمائش کے جواب ميں
فاطمہ بنت عبداللہ
شبنم اور ستارے
محاصرہ ادرنہ
غلام قادر رہيلہ
ايک مکالمہ
ميں اورتو
تضمين بر شعر ابوطالب کليم
شبلي وحالي
ارتقا
صديق
تہذيب حاضر
والدہ مرحومہ کي ياد ميں
شعاع آفتاب
عرفي
ايک خط کے جواب ميں
نانک
کفر واسلام
بلال
مسلمان اور تعليم جديد
پھولوں کي شہز ادي
تضمين بر شعر صائب
فردوس ميں ايک مکالمہ
مذ ہب
جنگ ير موک کاايک واقعہ
مذ ہب
پيوستہ رہ شجر سے ، اميد بہار رکھ
شب معراج
پھول
شيکسپير
ميں اورتو
اسيري
دريوزہ خلافت
ہمايوں
خضرراہ
طلوع اسلام

غز ليات

اے باد صبا! کملي والے سے جا کہيو پيغام مرا
يہ سرود قمري و بلبل فريب گوش ہے
نالہ ہے بلبل شوريدہ ترا خام ابھي
پردہ چہرے سے اٹھا ، انجمن آرائي کر
پھر باد بہار آئي ، اقبال غزل خواں ہو
کبھي اے حقيقت منتظر نظر لباس مجاز ميں
تہ دام بھي غزل آشنا رہے طائران چمن تو کيا
گرچہ تو زنداني اسباب ہے



ظر یفا نہ

مشرق ميں اصول دين بن جاتے
لڑکياں پڑھ رہي ہيں انگريزي
شيخ صاحب بھي تو پردے کے کوئي حامي نہيں
يہ کوئي دن کي بات ہے اے مرد ہوش مند
تعليم مغربي ہے بہت جرات آفريں
کچھ غم نہيں جو حضرت واعظ ہيں تنگ دست
تہذيب کے مريض کو گولي سے فائدہ!
انتہا بھي اس کي ہے؟ آخر خريديں کب تلک
ہم مشرق کے مسکينوں کا دل مغرب ميں جا اٹکا ہے
''اصل شہود و شاہد و مشہود ايک ہے''
ہاتھوں سے اپنے دامن دنيا نکل گيا
وہ مس بولي ارادہ خودکشي کا جب کيا ميں نے
ناداں تھے اس قدر کہ نہ جاني عرب کي قدر
ہندوستاں ميں جزو حکومت ہيں
ممبري امپيريل کونسل کي کچھ مشکل نہيں
دليل مہر و وفا اس سے بڑھ کے کيا ہوگي
فرما رہے تھے شيخ طريق عمل پہ وعظ
ديکھے چلتي ہے مشرق کي تجارت کب تک
گائے اک روز ہوئي اونٹ سے يوں گرم سخن
رات مچھر نے کہہ ديا مجھ سے
يہ آيہ نو ، جيل سے نازل ہوئي مجھ پر
جان جائے ہاتھ سے جائے نہ ست
محنت و سرمايہ دنيا ميں صف آرا ہو گئے
شام کي سرحد سے رخصت ہے وہ رند لم يزل
تکرار تھي مزارع و مالک ميں ايک روز
اٹھا کر پھينک دو باہر گلي ميں
کارخانے کا ہے مالک مردک ناکردہ کار
سنا ہے ميں نے، کل يہ گفتگو تھي کارخانے ميں
مسجد تو بنا دي شب بھر ميں ايماں کي حرارت والوں نے
This file is not intended to be viewed directly using a web browser. To create a viewable file, use the Preview in Browser or Publish to Yahoo! Web Hosting commands from within Yahoo! SiteBuilder.