| HOME | IQBAL | POEMS AND WORKS | VIDEOS | AUDIO | USEFUL SITES | CONTACT US |
| نانک قوم نے پيغام گو تم کي ذرا پروا نہ کي قدر پہچاني نہ اپنے گوہر يک دانہ کي آہ! بد قسمت رہے آواز حق سے بے خبر غافل اپنے پھل کي شيريني سے ہوتا ہے شجر آشکار اس نے کيا جو زندگي کا راز تھا ہند کو ليکن خيالي فلسفے پر ناز تھا شمع حق سے جو منور ہو يہ وہ محفل نہ تھي بارش رحمت ہوئي ليکن زميں قابل نہ تھي آہ! شودر کے ليے ہندوستاں غم خانہ ہے درد انساني سے اس بستي کا دل بيگانہ ہے برہمن سرشار ہے اب تک مےء پندار ميں شمع گو تم جل رہي ہے محفل اغيار ميں بت کدہ پھر بعد مدت کے مگر روشن ہوا نور ابراہيم سے آزر کا گھر روشن ہوا پھر اٹھي آخر صدا توحيد کي پنجاب سے ہند کو اک مرد کامل نے جگايا خواب سے |
| کفر واسلام تضمين بر شعر ميررضي دانش ايک دن اقبال نے پوچھا کليم طور سے اے کہ تيرے نقش پا سے وادي سينا چمن آتش نمرود ہے اب تک جہاں ميں شعلہ ريز ہوگيا آنکھوں سے پنہاں کيوں ترا سوز کہن تھا جواب صاحب سينا کہ مسلم ہے اگر چھوڑ کر غائب کو تو حاضر کا شيدائي نہ بن ذوق حاضر ہے تو پھر لازم ہے ايمان خليل ورنہ خاکستر ہے تيري زندگي کا پيرہن ہے اگر ديوانہء غائب تو کچھ پروا نہ کر منتظر رہ وادي فاراں ميں ہو کر خيمہ زن عارضي ہے شان حاضر ، سطوت غائب مدام اس صداقت کو محبت سے ہے ربط جان و تن شعلہ نمرود ہے روشن زمانے ميں تو کيا ''شمع خود رامي گدازد درميان انجمن نور ما چوں آتش سنگ از نظر پنہاں خوش است'' |