poems and works >> poetical works >> Kuliyat-e-Iqbal >> Bang-e-Dra (part 3)
HOME  |  IQBAL  |  POEMS AND WORKS  |  VIDEOS  |  AUDIO  |  USEFUL SITES  | CONTACT US
نانک


قوم نے پيغام گو تم کي ذرا پروا نہ کي
قدر پہچاني نہ اپنے گوہر يک دانہ کي

آہ! بد قسمت رہے آواز حق سے بے خبر
غافل اپنے پھل کي شيريني سے ہوتا ہے شجر
آشکار اس نے کيا جو زندگي کا راز تھا
ہند کو ليکن خيالي فلسفے پر ناز تھا
شمع حق سے جو منور ہو يہ وہ محفل نہ تھي
بارش رحمت ہوئي ليکن زميں قابل نہ تھي
آہ! شودر کے ليے ہندوستاں غم خانہ ہے
درد انساني سے اس بستي کا دل بيگانہ ہے
برہمن سرشار ہے اب تک مےء پندار ميں
شمع گو تم جل رہي ہے محفل اغيار ميں
بت کدہ پھر بعد مدت کے مگر روشن ہوا
نور ابراہيم سے آزر کا گھر روشن ہوا

پھر اٹھي آخر صدا توحيد کي پنجاب سے
ہند کو اک مرد کامل نے جگايا خواب سے
حصہ سوم

..........1908

بلاد اسلاميہ
ستارہ
دوستارے
گورستان شاہي
نمود صبح
تضمين بر شعر انيسي شاملو
فلسفہ غم
پھول کا تحفہ عطا ہونے پر
ترانہ ملي
وطنيت
ايک حاجي مدينے کے راستے ميں
قطعہ کل ايک شوريدہ خواب گاہ نبي پہ رو رو کے کہہ رہا
شکوہ
چاند
رات اور شاعر
بزم انجم
سير فلک
نصيحت
رام
موٹر
انسان
خطاب بہ جوانان اسلام
غرہ شوال يا ہلال عيد
شمع اور شاعر
مسلم
حضور رسالت مآب ميں
شفاخانہ حجاز
جواب شکوہ
ساقي
تعليم اور اس کے نتائج
قرب سلطان
شا عر
نو يد صبح
دعا
عيد پر شعر لکھنے کي فرمائش کے جواب ميں
فاطمہ بنت عبداللہ
شبنم اور ستارے
محاصرہ ادرنہ
غلام قادر رہيلہ
ايک مکالمہ
ميں اورتو
تضمين بر شعر ابوطالب کليم
شبلي وحالي
ارتقا
صديق
تہذيب حاضر
والدہ مرحومہ کي ياد ميں
شعاع آفتاب
عرفي
ايک خط کے جواب ميں
نانک
کفر واسلام
بلال
مسلمان اور تعليم جديد
پھولوں کي شہز ادي
تضمين بر شعر صائب
فردوس ميں ايک مکالمہ
مذ ہب
جنگ ير موک کاايک واقعہ
مذ ہب
پيوستہ رہ شجر سے ، اميد بہار رکھ
شب معراج
پھول
شيکسپير
ميں اورتو
اسيري
دريوزہ خلافت
ہمايوں
خضرراہ
طلوع اسلام

غز ليات

اے باد صبا! کملي والے سے جا کہيو پيغام مرا
يہ سرود قمري و بلبل فريب گوش ہے
نالہ ہے بلبل شوريدہ ترا خام ابھي
پردہ چہرے سے اٹھا ، انجمن آرائي کر
پھر باد بہار آئي ، اقبال غزل خواں ہو
کبھي اے حقيقت منتظر نظر لباس مجاز ميں
تہ دام بھي غزل آشنا رہے طائران چمن تو کيا
گرچہ تو زنداني اسباب ہے



ظر یفا نہ

مشرق ميں اصول دين بن جاتے
لڑکياں پڑھ رہي ہيں انگريزي
شيخ صاحب بھي تو پردے کے کوئي حامي نہيں
يہ کوئي دن کي بات ہے اے مرد ہوش مند
تعليم مغربي ہے بہت جرات آفريں
کچھ غم نہيں جو حضرت واعظ ہيں تنگ دست
تہذيب کے مريض کو گولي سے فائدہ!
انتہا بھي اس کي ہے؟ آخر خريديں کب تلک
ہم مشرق کے مسکينوں کا دل مغرب ميں جا اٹکا ہے
''اصل شہود و شاہد و مشہود ايک ہے''
ہاتھوں سے اپنے دامن دنيا نکل گيا
وہ مس بولي ارادہ خودکشي کا جب کيا ميں نے
ناداں تھے اس قدر کہ نہ جاني عرب کي قدر
ہندوستاں ميں جزو حکومت ہيں
ممبري امپيريل کونسل کي کچھ مشکل نہيں
دليل مہر و وفا اس سے بڑھ کے کيا ہوگي
فرما رہے تھے شيخ طريق عمل پہ وعظ
ديکھے چلتي ہے مشرق کي تجارت کب تک
گائے اک روز ہوئي اونٹ سے يوں گرم سخن
رات مچھر نے کہہ ديا مجھ سے
يہ آيہ نو ، جيل سے نازل ہوئي مجھ پر
جان جائے ہاتھ سے جائے نہ ست
محنت و سرمايہ دنيا ميں صف آرا ہو گئے
شام کي سرحد سے رخصت ہے وہ رند لم يزل
تکرار تھي مزارع و مالک ميں ايک روز
اٹھا کر پھينک دو باہر گلي ميں
کارخانے کا ہے مالک مردک ناکردہ کار
سنا ہے ميں نے، کل يہ گفتگو تھي کارخانے ميں
مسجد تو بنا دي شب بھر ميں ايماں کي حرارت والوں نے
کفر واسلام

تضمين بر شعر ميررضي دانش


ايک دن اقبال نے پوچھا کليم طور سے
اے کہ تيرے نقش پا سے وادي سينا چمن

آتش نمرود ہے اب تک جہاں ميں شعلہ ريز
ہوگيا آنکھوں سے پنہاں کيوں ترا سوز کہن

تھا جواب صاحب سينا کہ مسلم ہے اگر
چھوڑ کر غائب کو تو حاضر کا شيدائي نہ بن

ذوق حاضر ہے تو پھر لازم ہے ايمان خليل
ورنہ خاکستر ہے تيري زندگي کا پيرہن

ہے اگر ديوانہء غائب تو کچھ پروا نہ کر
منتظر رہ وادي فاراں ميں ہو کر خيمہ زن

عارضي ہے شان حاضر ، سطوت غائب مدام
اس صداقت کو محبت سے ہے ربط جان و تن

شعلہ نمرود ہے روشن زمانے ميں تو کيا
''شمع خود رامي گدازد درميان انجمن

نور ما چوں آتش سنگ از نظر پنہاں خوش است''
This file is not intended to be viewed directly using a web browser. To create a viewable file, use the Preview in Browser or Publish to Yahoo! Web Hosting commands from within Yahoo! SiteBuilder.