| HOME | IQBAL | POEMS AND WORKS | VIDEOS | AUDIO | USEFUL SITES | CONTACT US |
| قرطبہ ميں لکھے گئے يہ حوريان فرنگي ، دل و نظر کا حجاب يہ حوريان فرنگي ، دل و نظر کا حجاب بہشت مغربياں ، جلوہ ہائے پا بہ رکاب دل و نظر کا سفينہ سنبھال کر لے جا مہ و ستارہ ہيں بحر وجود ميں گرداب جہان صوت و صدا ميں سما نہيں سکتي لطيفہ ازلي ہے فغان چنگ و رباب سکھا ديے ہيں اسے شيوہ ہائے خانقہي فقيہ شہر کو صوفي نے کر ديا ہے خراب وہ سجدہ ، روح زميں جس سے کانپ جاتي تھي اسي کو آج ترستے ہيں منبر و محراب سني نہ مصر و فلسطيں ميں وہ اذاں ميں نے ديا تھا جس نے پہاڑوں کو رعشہ سيماب ہوائے قرطبہ! شايد يہ ہے اثر تيرا مري نوا ميں ہے سوز و سرور عہد شباب |