HOME  |  IQBAL  |  POEMS AND WORKS  |  VIDEOS  |  AUDIO  |  USEFUL SITES  | CONTACT US
ستاروں    سے آگے جہاں اور بھي ہيں


ستاروں سے آگے جہاں اور بھي ہيں
ابھي عشق کے امتحاں اور بھي ہيں
تہي ، زندگي سے نہيں يہ فضائيں
يہاں سينکڑوں کارواں اور بھي ہيں
قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر
چمن اور بھي آشياں اور بھي ہيں
اگر کھو گيا اک نشيمن تو کيا غم
مقامات آہ و فغاں اور بھي ہيں
تو شاہيں ہے ، پرواز ہے کام تيرا
ترے سامنے آسماں اور بھي ہيں
اسي روز و شب ميں الجھ کر نہ رہ جا
کہ تيرے زمان و مکاں اور بھي ہيں
گئے دن کہ تنہا تھا ميں انجمن ميں
يہاں اب مرے رازداں اور بھي ہيں
با ل جبر یل

(اردو)

حصہ دوم

سما سکتا نہيں پہنائے فطرت ميں مرا سودا
يہ کون غزل خواں ہے پرسوز و نشاط انگيز
وہ حرف راز کہ مجھ کو سکھا گيا ہے جنوں
عالم آب و خاک و باد! سر عياں ہے تو کہ ميں
تو ابھي رہ گزر ميں ہے ، قيد مقام سے گزر
امين راز ہے مردان حر کي درويشي
پھر چراغ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن
مسلماں کے لہو ميں ہے سليقہ دل نوازي کا
عشق سے پيدا نوائے زندگي ميں زير و بم
دل سوز سے خالي ہے ، نگہ پاک نہيں ہے
ہزار خوف ہو ليکن زباں ہو دل کي رفيق
پوچھ اس سے کہ مقبول ہے فطرت کي گواہي
يہ حوريان فرنگي ، دل و نظر کا حجاب
دل بيدار فاروقي ، دل بيدار کراري
خودي کي شوخي و تندي ميں کبر و ناز نہيں
مير سپاہ ناسزا ، لشکرياں شکستہ صف
زمستاني ہوا ميں گرچہ تھي شمشير کي تيزي
يہ دير کہن کيا ہے ، انبار خس و خاشاک
کمال ترک نہيں آب و گل سے مہجوري
عقل گو آستاں سے دور نہيں
خودي وہ بحر ہے جس کا کوئي کنارہ نہيں
يہ پيام دے گئي ہے مجھے باد صبح گاہي
تري نگاہ فرومايہ ، ہاتھ ہے کوتاہ
خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہيں
نگاہ فقر ميں شان سکندري کيا ہے
نہ تو زميں کے ليے ہے نہ آسماں کے ليے
تو اے اسير مکاں! لامکاں سے دور نہيں
خرد نے مجھ کو عطا کي نظر حکيمانہ
افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر
ہر شے مسافر ، ہر چيز راہي
ہر چيز ہے محو خود نمائي
اعجاز ہے کسي کا يا گردش زمانہ
خردمندوں سے کيا پوچھوں کہ ميري ابتدا کيا ہے
جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہي
مجھے آہ و فغان نيم شب کا پھر پيام آيا
نہ ہو طغيان مشتاقي تو ميں رہتا نہيں باقي
فطرت کو خرد کے روبرو کر
يہ پيران کليسا و حرم ، اے وائے مجبوري
تازہ پھر دانش حاضر نے کيا سحر قديم
ستاروں سے آگے جہاں اور بھي ہيں
ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عيش جہاں کا دوام
خودي ہو علم سے محکم تو غيرت جبريل
مکتبوں ميں کہيں رعنائي افکار بھي ہے؟
حادثہ وہ جو ابھي پردہ افلاک ميں ہے
رہا نہ حلقہ صوفي ميں سوز مشتاقي
ہوا نہ زور سے اس کے کوئي گريباں چاک
يوں ہاتھ نہيں آتا وہ گوہر يک دانہ
نہ تخت و تاج ميں ، نے لشکر و سپاہ ميں ہے
فطرت نے نہ بخشا مجھے انديشہ چالاک
کريں گے اہل نظر تازہ بستياں آباد
کي حق سے فرشتوں نے اقبال کي غمازي
نے مہرہ باقي ، نے مہرہ بازي
گرم فغاں ہے جرس ، اٹھ کہ گيا قافلہ
مري نوا سے ہوئے زندہ عارف و عامي
ہر اک مقام سے آگے گزر گيا مہ نو
کھو نہ جا اس سحروشام ميں اے صاحب ہوش
تھا جہاں مدرسہ شيري و شاہنشاہي
ہے ياد مجھے نکتہ سلمان خوش آہنگ
فقر کے ہيں معجزات تاج و سرير و سپاہ
کمال جوش جنوں ميں رہا ميں گرم طواف
شعور و ہوش و خرد کا معاملہ ہے عجيب
قطعہ انداز بياں گرچہ بہت شوخ نہيں ہے
This file is not intended to be viewed directly using a web browser. To create a viewable file, use the Preview in Browser or Publish to Yahoo! Web Hosting commands from within Yahoo! SiteBuilder.