HOME  |  IQBAL  |  POEMS AND WORKS  |  VIDEOS  |  AUDIO  |  USEFUL SITES  | CONTACT US
ء ا علےحضرت    شہيد اميرالمومنين نادر شاہ غازي رحمتہ اللہ
سنائي ميں    مصنف کو حکيم 1933عليہ کے لطف و کرم سے
سپرد ہوئي - يہ غزنوي رحمتہاللہ عليہ کے مزار مقدس کي زيارت
قصيدے کي چند    افکار پريشاں جن ميں حکيم ہي کے ايک
گئےيادگار قلم کيے پيروي کي گئي ہے ، اس روز سعيد    کي
ميںمشہورنصيبنومبر

-:
'ما از پے سنائي و عطار آمديم'


~~~~0~~~~

سما سکتا نہيں پہنائے فطرت ميں مرا سودا
غلط تھا اے جنوں شايد ترا اندازہ صحرا
خودي سے اس طلسم رنگ و بو کو توڑ سکتے ہيں
يہي توحيد تھي جس کو نہ تو سمجھا نہ ميں سمجھا
نگہ پيدا کر اے غافل تجلي عين فطرت ہے
کہ اپني موج سے بيگانہ رہ سکتا نہيں دريا
رقابت علم و عرفاں ميں غلط بيني ہے منبر کي
کہ وہ حلاج کي سولي کو سمجھا ہے رقيب اپنا
خدا کے پاک بندوں کو حکومت ميں ، غلامي ميں
زرہ کوئي اگر محفوظ رکھتي ہے تو استغنا
نہ کر تقليد اے جبريل ميرے جذب و مستي کي
تن آساں عرشيوں کو ذکر و تسبيح و طواف اولي

~~~~0~~~~

بہت ديکھے ہيں ميں نے مشرق و مغرب کے ميخانے
يہاں ساقي نہيں پيدا ، وہاں بے ذوق ہے صہبا
نہ ايراں ميں رہے باقي ، نہ توراں ميں رہے باقي
وہ بندے فقر تھا جن کا ہلاک قيصر و کسري
يہي شيخ حرم ہے جو چرا کر بيچ کھاتا ہے
گليم بوذر و دلق اويس و چادر زہرا!
حضور حق ميں اسرافيل نے ميري شکايت کي
يہ بندہ وقت سے پہلے قيامت کر نہ دے برپا
ندا آئي کہ آشوب قيامت سے يہ کيا کم ہے
'
1گرفتہ چينياں احرام و مکي خفتہ در بطحا '
لبالب شيشہ تہذيب حاضر ہے مے 'لا' سے
مگر ساقي کے ہاتھوں ميں نہيں پيمانہ 'الا'
دبا رکھا ہے اس کو زخمہ ور کي تيز دستي نے
بہت نيچے سروں ميں ہے ابھي يورپ کا واويلا
اسي دريا سے اٹھتي ہے وہ موج تند جولاں بھي
نہنگوں کے نشيمن جس سے ہوتے ہيں تہ و بالا


1 يہ مصرع حکيم سنائي کا ہے

~~~~0~~~~

غلامي کيا ہے ؟ ذوق حسن و زيبائي سے محرومي
جسے زيبا کہيں آزاد بندے ، ہے وہي زيبا
بھروسا کر نہيں سکتے غلاموں کي بصيرت پر
کہ دنيا ميں فقط مردان حر کي آنکھ ہے بينا
وہي ہے صاحب امروز جس نے اپني ہمت سے
زمانے کے سمندر سے نکالا گوہر فردا
فرنگي شيشہ گر کے فن سے پتھر ہوگئے پاني
مري اکسير نے شيشے کو بخشي سختي خارا
رہے ہيں ، اور ہيں فرعون ميري گھات ميں اب تک
مگر کيا غم کہ ميري آستيں ميں ہے يد بيضا
وہ چنگاري خس و خاشاک سے کس طرح دب جائے
جسے حق نے کيا ہو نيستاں کے واسطے پيدا
محبت خويشتن بيني ، محبت خويشتن داري
محبت آستان قيصر و کسري سے بے پروا
عجب کيا رمہ و پرويں مرے نخچير ہو جائيں
'
1کہ برفتراک صاحب دولتے بستم سر خود را'


1 يہ مصرع مرزا صائب کا ہے جس ميں ايک لفظي تغير کيا گيا

~~~~0~~~~

وہ دانائے سبل ، ختم الرسل ، مولائے کل جس نے
غبار راہ کو بخشا فروغ وادي سينا
نگاہ عشق و مستي ميں وہي اول ، وہي آخر
وہي قرآں ، وہي فرقاں ، وہي يسيں ، وہي طہ
سنائي کے ادب سے ميں نے غواصي نہ کي ورنہ
ابھي اس بحر ميں باقي ہيں لاکھوں لولوئے لالا
با ل جبر یل

(اردو)

حصہ دوم

سما سکتا نہيں پہنائے فطرت ميں مرا سودا
يہ کون غزل خواں ہے پرسوز و نشاط انگيز
وہ حرف راز کہ مجھ کو سکھا گيا ہے جنوں
عالم آب و خاک و باد! سر عياں ہے تو کہ ميں
تو ابھي رہ گزر ميں ہے ، قيد مقام سے گزر
امين راز ہے مردان حر کي درويشي
پھر چراغ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن
مسلماں کے لہو ميں ہے سليقہ دل نوازي کا
عشق سے پيدا نوائے زندگي ميں زير و بم
دل سوز سے خالي ہے ، نگہ پاک نہيں ہے
ہزار خوف ہو ليکن زباں ہو دل کي رفيق
پوچھ اس سے کہ مقبول ہے فطرت کي گواہي
يہ حوريان فرنگي ، دل و نظر کا حجاب
دل بيدار فاروقي ، دل بيدار کراري
خودي کي شوخي و تندي ميں کبر و ناز نہيں
مير سپاہ ناسزا ، لشکرياں شکستہ صف
زمستاني ہوا ميں گرچہ تھي شمشير کي تيزي
يہ دير کہن کيا ہے ، انبار خس و خاشاک
کمال ترک نہيں آب و گل سے مہجوري
عقل گو آستاں سے دور نہيں
خودي وہ بحر ہے جس کا کوئي کنارہ نہيں
يہ پيام دے گئي ہے مجھے باد صبح گاہي
تري نگاہ فرومايہ ، ہاتھ ہے کوتاہ
خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہيں
نگاہ فقر ميں شان سکندري کيا ہے
نہ تو زميں کے ليے ہے نہ آسماں کے ليے
تو اے اسير مکاں! لامکاں سے دور نہيں
خرد نے مجھ کو عطا کي نظر حکيمانہ
افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر
ہر شے مسافر ، ہر چيز راہي
ہر چيز ہے محو خود نمائي
اعجاز ہے کسي کا يا گردش زمانہ
خردمندوں سے کيا پوچھوں کہ ميري ابتدا کيا ہے
جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہي
مجھے آہ و فغان نيم شب کا پھر پيام آيا
نہ ہو طغيان مشتاقي تو ميں رہتا نہيں باقي
فطرت کو خرد کے روبرو کر
يہ پيران کليسا و حرم ، اے وائے مجبوري
تازہ پھر دانش حاضر نے کيا سحر قديم
ستاروں سے آگے جہاں اور بھي ہيں
ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عيش جہاں کا دوام
خودي ہو علم سے محکم تو غيرت جبريل
مکتبوں ميں کہيں رعنائي افکار بھي ہے؟
حادثہ وہ جو ابھي پردہ افلاک ميں ہے
رہا نہ حلقہ صوفي ميں سوز مشتاقي
ہوا نہ زور سے اس کے کوئي گريباں چاک
يوں ہاتھ نہيں آتا وہ گوہر يک دانہ
نہ تخت و تاج ميں ، نے لشکر و سپاہ ميں ہے
فطرت نے نہ بخشا مجھے انديشہ چالاک
کريں گے اہل نظر تازہ بستياں آباد
کي حق سے فرشتوں نے اقبال کي غمازي
نے مہرہ باقي ، نے مہرہ بازي
گرم فغاں ہے جرس ، اٹھ کہ گيا قافلہ
مري نوا سے ہوئے زندہ عارف و عامي
ہر اک مقام سے آگے گزر گيا مہ نو
کھو نہ جا اس سحروشام ميں اے صاحب ہوش
تھا جہاں مدرسہ شيري و شاہنشاہي
ہے ياد مجھے نکتہ سلمان خوش آہنگ
فقر کے ہيں معجزات تاج و سرير و سپاہ
کمال جوش جنوں ميں رہا ميں گرم طواف
شعور و ہوش و خرد کا معاملہ ہے عجيب
قطعہ انداز بياں گرچہ بہت شوخ نہيں ہے
This file is not intended to be viewed directly using a web browser. To create a viewable file, use the Preview in Browser or Publish to Yahoo! Web Hosting commands from within Yahoo! SiteBuilder.