| HOME | IQBAL | POEMS AND WORKS | VIDEOS | AUDIO | USEFUL SITES | CONTACT US |
| فرانس ميں لکھے گئے ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عيش جہاں کا دوام ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عيش جہاں کا دوام وائے تمنائے خام ، وائے تمنائے خام! پير حرم نے کہا سن کے مري روئداد پختہ ہے تيري فغاں ، اب نہ اسے دل ميں تھام تھا ارني گو کليم ، ميں ارني گو نہيں اس کو تقاضا روا ، مجھ پہ تقاضا حرام گرچہ ہے افشائے راز ، اہل نظر کي فغاں ہو نہيں سکتا کبھي شيوہ رندانہ عام حلقہ صوفي ميں ذکر ، بے نم و بے سوز و ساز ميں بھي رہا تشنہ کام ، تو بھي رہا تشنہ کام عشق تري انتہا ، عشق مري انتہا تو بھي ابھي ناتمام ، ميں بھي ابھي ناتمام آہ کہ کھويا گيا تجھ سے فقيري کا راز ورنہ ہے مال فقير سلطنت روم و شام |