| HOME | IQBAL | POEMS AND WORKS | VIDEOS | AUDIO | USEFUL SITES | CONTACT US |
| افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر کرتے ہيں خطاب آخر ، اٹھتے ہيں حجاب آخر احوال محبت ميں کچھ فرق نہيں ايسا سوز و تب و تاب اول ، سوزو تب و تاب آخر ميں تجھ کو بتاتا ہوں ، تقدير امم کيا ہے شمشير و سناں اول ، طاؤس و رباب آخر ميخانہ يورپ کے دستور نرالے ہيں لاتے ہيں سرور اول ، ديتے ہيں شراب آخر کيا دبدبہ نادر ، کيا شوکت تيموري ہو جاتے ہيں سب دفتر غرق م ے ناب آخر خلوت کي گھڑي گزري ، جلوت کي گھڑي آئي چھٹنے کو ہے بجلي سے آغوش سحاب آخر تھا ضبط بہت مشکل اس سيل معاني کا کہہ ڈالے قلندر نے اسرار کتاب آخر |