| HOME | IQBAL | POEMS AND WORKS | VIDEOS | AUDIO | USEFUL SITES | CONTACT US |
| زمانہ جو تھا نہيں ہے ، جو ہے نہ ہو گا ، يہي ہے اک حرف محرمانہ قريب تر ہے نمود جس کي ، اسي کا مشتاق ہے زمانہ مري صراحي سے قطرہ قطرہ نئے حوادث ٹپک رہے ہيں ميں اپني تسبيح روز و شب کا شمار کرتا ہوں دانہ دانہ ہر ايک سے آشنا ہوں ، ليکن جدا جدا رسم و راہ ميري کسي کا راکب ، کسي کا مرکب ، کسي کو عبرت کا تازيانہ نہ تھا اگر تو شريک محفل ، قصور ميرا ہے يا کہ تيرا مرا طريقہ نہيں کہ رکھ لوں کسي کي خاطر مےء شبانہ مرے خم و پيچ کو نجومي کي آنکھ پہچانتي نہيں ہے ہدف سے بيگانہ تيرا اس کا ، نظر نہيں جس کي عارفانہ شفق نہيں مغربي افق پر يہ جوئے خوں ہے ، يہ جوئے خوں ہے طلوع فردا کا منتظر رہ کہ دوش و امروز ہے فسانہ وہ فکر گستاخ جس نے عرياں کيا ہے فطرت کي طاقتوں کو اس کي بيتاب بجليوں سے خطر ميں ہے اس کا آشيانہ ہوائيں ان کي ، فضائيں ان کي ، سمندر ان کے ، جہاز ان کے گرہ بھنور کي کھلے تو کيونکر ، بھنور ہے تقدير کا بہانہ جہان نو ہو رہا ہے پيدا ، وہ عالم پير مر رہا ہے جسے فرنگي مقامروں نے بنا ديا ہے قمار خانہ ہوا ہے گو تند و تيز ليکن چراغ اپنا جلا رہا ہے وہ مرد درويش جس کو حق نے ديے ہيں انداز خسروانہ |