| HOME | IQBAL | POEMS AND WORKS | VIDEOS | AUDIO | USEFUL SITES | CONTACT US |
| فرشتوںکاگيت عقل ہے بے زمام ابھي ، عشق ہے بے مقام ابھي نقش گر ، ازل! ترا نقش ہے نا تمام ابھي خلق خدا کي گھات ميں رند و فقيہ و مير و پير تيرے جہاں ميں ہے وہي گردش صبح و شام ابھي تيرے امير مال مست ، تيرے فقير حال مست بندہ ہے کوچہ گرد ابھي ، خواجہ بلند بام ابھي دانش و دين و علم و فن بندگي ہوس تمام عشق گرہ کشاے کا فيض نہيں ہے عام ابھي جوہر زندگي ہے عشق ، جوہر عشق ہے خودي آہ کہ ہے يہ تيغ تيز پردگي نيام ابھي فرمان خدا - فرشتوں سے - اٹھو ! مري دنيا کے غريبوں کو جگا دو کاخ امرا کے در و ديوار ہلا دو گرماؤ غلاموں کا لہو سوز يقيں سے کنجشک فرومايہ کو شاہيں سے لڑا دو سلطاني جمہور کا آتا ہے زمانہ جو نقش کہن تم کو نظر آئے ، مٹا دو جس کھيت سے دہقاں کو ميسر نہيں روزي اس کھيت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو کيوں خالق و مخلوق ميں حائل رہيں پردے پيران کليسا کو کليسا سے اٹھا دو حق را بسجودے ، صنماں را بطوافے بہتر ہے چراغ حرم و دير بجھا دو ميں ناخوش و بيزار ہوں مرمر کي سلوں سے ميرے ليے مٹي کا حرم اور بنا دو تہذيب نوي کارگہ شيشہ گراں ہے آداب جنوں شاعر مشرق کو سکھا دو |