| HOME | IQBAL | POEMS AND WORKS | VIDEOS | AUDIO | USEFUL SITES | CONTACT US |
| دعا (مسجد قرطبہ ميں لکھي گئي) ہے يہي ميري نماز ، ہے يہي ميرا وضو ميري نواؤں ميں ہے ميرے جگر کا لہو صحبت اہل صفا ، نور و حضور و سرور سر خوش و پرسوز ہے لالہ لب آبجو راہ محبت ميں ہے کون کسي کا رفيق ساتھ مرے رہ گئي ايک مري آرزو ميرا نشيمن نہيں درگہ مير و وزير ميرا نشيمن بھي تو ، شاخ نشيمن بھي تو تجھ سے گريباں مرا مطلع صبح نشور تجھ سے مرے سينے ميں آتش 'اللہ ھو' تجھ سے مري زندگي سوز و تب و درد و داغ تو ہي مري آرزو ، تو ہي مري جستجو پاس اگر تو نہيں ، شہر ہے ويراں تمام تو ہے تو آباد ہيں اجڑے ہوئے کاخ و کو پھر وہ شراب کہن مجھ کو عطا کہ ميں ڈھونڈ رہا ہوں اسے توڑ کے جام و سبو چشم کرم ساقيا! دير سے ہيں منتظر جلوتيوں کے سبو ، خلوتيوں کے کدو تيري خدائي سے ہے ميرے جنوں کو گلہ اپنے ليے لامکاں ، ميرے ليے چار سو! فلسفہ و شعر کي اور حقيقت ہے کيا حرف تمنا ، جسے کہہ نہ سکيں رو برو |